28 اگست 2026 - 15:50
بحرین میں جنگی حالات کی آڑ میں 69 شہریوں اور ان کے خاندانوں کی شہریت منسوخ

بحرینی حکام نے 69 شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کی شہریت بیک وقت منسوخ کردی، جس سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے اجتماعی سزا اور سیاسی انتقام کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے حامی ایک امریکی ادارے کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بحرینی حکام نے علاقائی جنگی حالات کو شہریت منسوخ کرنے کی پالیسی کو مزید وسعت دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بحرین میں 2012 سے جاری اس پالیسی کے تحت 2019 تک تقریباً 990 شہریوں کی شہریت دہشت گردی اور بدامنی جیسے الزامات کی بنیاد پر منسوخ کی جاچکی تھی۔ اب حکام نے سوشل میڈیا پر ہمدردی کے اظہار اور حملوں کی تعریف جیسے مبہم الزامات کو بھی شہریت منسوخ کرنے کی بنیاد بنا دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 27 اپریل 2026 کو 69 شہریوں اور ان کے خاندانوں کی شہریت بیک وقت منسوخ کردی گئی اور متاثرین کو منصفانہ عدالتی کارروائی یا فیصلے کے خلاف مؤثر اپیل کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق، اس اقدام کا دائرہ صرف افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ اجتماعی سزا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ شہریت سے محرومی کے باعث بچوں اور خاندانوں کو سرکاری دستاویزات، تعلیم، طبی سہولیات اور رہائش سمیت بنیادی حقوق سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، جبکہ بحرین کے اندر اور بیرونِ ملک بے وطن افراد کی نئی نسلیں وجود میں آ رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بحرینی حکام نے پارلیمانی اور عدالتی نگرانی کو بھی محدود کردیا ہے۔ شہریت کے معاملات کو عدالتی دائرۂ اختیار سے نکال کر ریاستی امور میں شامل کرنے کے فرمان کی مخالفت کرنے والے تین ارکانِ پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کیے جانے کے بعد ان اقدامات کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha